23 ستمبر 2026 - 15:40
نیویارک میں امریکہ اور ایران کی تین گھنٹے طویل ملاقات؛ کیا کشیدگی میں کمی کی راہ کھلے گی؟

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں ایران کے صدر اور وزیر خارجہ کی نیویارک میں موجودگی کے دوران امریکی اور ایرانی حکام کی تین گھنٹے طویل ملاقات کی خبر نے ایک بار پھر مذاکرات کی راہ کھلنے کا امکان پیدا کردیا ہے، تاہم ایران کا کہنا ہے کہ اس راستے پر صرف اسی صورت میں آگے بڑھا جاسکتا ہے جب اس کے ٹھوس نتائج سامنے آئیں۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، ایران اور امریکہ کے درمیان جاری طویل جنگ کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز اعلان کیا کہ امریکی حکام، جن میں مشرق وسطیٰ کے لیے ان کے نمائندے اسٹیو وٹکاف اور ان کے داماد جیرڈ کشنر بھی شامل تھے، نے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شریک ایرانی وفد کے بعض ارکان کے ساتھ تین گھنٹے تک تعمیری ملاقات کی۔ یہ اعلان کسی حد تک حیران کن تھا، کیونکہ حالیہ ہفتوں کے واقعات، خصوصاً فوجی کشیدگی میں اضافے، ایران پر مزید سخت اقتصادی پابندیوں کے نفاذ اور یمن و سعودی عرب کے درمیان جنگ کے آغاز، سے یہ صورتحال مختلف دکھائی دیتی ہے۔

لبنان کے اخبار الاخبار کی رپورٹ کے مطابق، ایران کا وفد صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کی قیادت میں موجود ہے، جس میں ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی اور دیگر حکام بھی شامل ہیں، تاہم ایرانی وفد نے ٹرمپ کے بیان پر اب تک کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا۔ دوسری جانب امریکی صدر نے ایک بار پھر امید پر مبنی لہجہ اختیار کیا۔ وہ گزشتہ کئی ماہ کے دوران جنگ کے دوران بھی متعدد بار ایسا لہجہ اختیار کرچکے ہیں، تاہم بعد میں یہ واضح ہوا کہ معاملہ ابتدائی طور پر نظر آنے سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے اور اس میں امریکہ اور صیہونی ریاست کے انتخابات سے لے کر امریکی فیصلوں پر صیہونی ریاست کے اثر و رسوخ اور دیگر کئی عوامل شامل ہیں۔

ٹرمپ نے گزشتہ شام کہا کہ وٹکاف اور کشنر اس ملاقات میں موجود تھے۔ اس سے ظاہر ہوسکتا ہے کہ وہ اس ملاقات میں شامل واحد امریکی نمائندے نہیں تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دونوں فریقوں کے درمیان جلد ایک اور ملاقات ہوگی اور امید ظاہر کی کہ تہران کے ساتھ کوئی معاہدہ طے پا جائے گا۔ سی بی ایس نے بھی وٹکاف کے حوالے سے رپورٹ دی کہ ایرانی حکام کے ساتھ ملاقات اچھی رہی اور وہ اب خود کو بہت اچھا محسوس کر رہے ہیں۔

پزشکیان اور ٹرمپ کی ملاقات؛ پروگرام ابھی تہران کے ایجنڈے میں شامل نہیں

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر ٹرمپ اس سے قبل پزشکیان سے جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر ملاقات کے لیے آمادگی ظاہر کرچکے تھے۔ تاہم تہران کے ایک سفارتی ذریعے نے لبنان کے اخبار الاخبار کو بتایا کہ اس وقت تک ایسی کوئی ملاقات ایرانی وفد کے ایجنڈے میں شامل نہیں ہے۔

اس ذریعے نے مزید کہا کہ ایران نے جنگ کی صورتحال ختم کرنے کے لیے ہمیشہ مذاکرات اور سفارت کاری کا خیرمقدم کیا ہے، لیکن وہ اس نمائشی سفارت کاری کا حصہ نہیں بنے گا جس کے پیچھے ٹرمپ ہیں اور جس کا کوئی ٹھوس نتیجہ برآمد نہیں ہوگا۔

اقوام متحدہ میں پزشکیان؛ جنگ کے بارے میں ایران اور امریکہ کا مؤقف

توقع ہے کہ پزشکیان آج بدھ کی شام نیویارک کے مقامی وقت کے مطابق اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے۔ ان کی مسلسل تیسری مرتبہ جنرل اسمبلی میں شرکت ایسے وقت میں ہورہی ہے جب گزشتہ دو برس کے دوران ایران دوسری مرتبہ امریکہ اور صیہونی ریاست کے فوجی حملے کا نشانہ بنا ہے۔

اس تناظر میں اقوام متحدہ کا پلیٹ فارم ایران کے لیے امریکہ کے جنگ سے متعلق مؤقف کو چیلنج کرنے کا ایک موقع ہے۔ واشنگٹن تہران کو بحران پیدا کرنے والے فریق کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کرتا ہے اور اس کے مطابق اس بحران کے نتیجے میں عالمی معیشت کو خطرات لاحق ہوئے ہیں جبکہ آبنائے ہرمز کی بندش کو بھی اسی بحران کا حصہ قرار دیا جاتا ہے۔ اس کے مقابلے میں اسلامی جمہوریہ ایران خود کو غیر ملکی جارحیت کا شکار قرار دیتا ہے اور اپنے موجودہ اقدامات کو جنگ اور بحری ناکہ بندی کے مقابلے میں دفاع کے حق اور اپنے خلاف حملوں کی تکرار روکنے کے لیے ایک دفاعی اقدام قرار دیتا ہے۔

اس بنیاد پر ایسا لگتا ہے کہ ایرانی صدر کی تقریر میں ایک طرف دباؤ اور حملوں کے مقابلے میں اپنے دفاع کے لیے ملک کی آمادگی پر زور دیا جائے گا اور دوسری طرف مذاکرات میں داخل ہونے کے لیے آمادگی کا اعلان کیا جائے گا۔ تاہم تہران کوشش کرے گا کہ ان مذاکرات کو اس انداز میں پیش نہ کیا جائے کہ انہیں پسپائی یا شکست کی علامت سمجھا جائے۔

اسی وجہ سے ایران جنگ کے خاتمے کو واضح اور متعین شرائط سے جوڑنے پر زور دے گا، جن میں حملوں کا خاتمہ، ناکہ بندی کا خاتمہ، منجمد اثاثوں کی بحالی اور کسی بھی ممکنہ معاہدے پر عمل درآمد کی ضمانت شامل ہیں۔ تہران اس سے قبل بھی ان مطالبات کو اپنے مؤقف کی بنیادی شرائط کے طور پر امریکی فریق تک پہنچا چکا ہے۔

اسی تناظر میں ایران کی مجلس شوریٰ اسلامی کے سربراہ اور مذاکراتی ٹیم کے سربراہ محمدباقر قالیباف نے کہا: "مذاکرات بھی ایک میدان جنگ ہے۔ سفارت کاری کا مطلب تسلیم ہوجانا نہیں بلکہ میدان میں حاصل ہونے والی طاقت کو سیاسی کامیابیوں میں تبدیل کرنے کا عمل ہے۔"

ایران کے خلاف عالمی اتفاق رائے روکنے کے لیے پزشکیان اور عراقچی کی سفارتی کوششیں

اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم سے ہٹ کر بھی ایران کے صدر اور وزیر خارجہ جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر مختلف ممالک کے رہنماؤں اور حکام سے ملاقاتوں کے ذریعے امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف عالمی اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوششوں کو روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ طرزِ عمل شنگھائی تعاون تنظیم اور برکس سمیت کثیر ملکی اداروں کے دائرے میں تہران کی کوششوں سے ہم آہنگ ہے۔

ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ایرنا نے اس حوالے سے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ پزشکیان اور عراقچی کے نیویارک کے دورے سے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی جارحیت کے خاتمے کے لیے کسی جامع معاہدے کی توقع نہیں کی جارہی، تاہم یہ دورہ سفارت کاری کے ایک نئے راستے کا آغاز ہوسکتا ہے، جس کا مقصد خطے میں جنگ کا مستقل اور حتمی خاتمہ ہے۔ اگرچہ یہ معاملہ سب سے پہلے اس بات پر منحصر ہے کہ امریکی فریق سفارتی اور پرامن حل قبول کرنے کے لیے کس حد تک آمادہ ہے۔

آبنائے ہرمز کے اثرات پر تشویش؛ ثالثوں کا مذاکرات جاری رکھنے پر زور

ایرانی وفد کی اقوام متحدہ کے اجلاس میں شرکت ایسے وقت میں ہورہی ہے جب آبنائے ہرمز میں عدم تحفظ کے اقتصادی اثرات کے حوالے سے عالمی برادری کی تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔ یہ صورتحال امریکہ اور صیہونی ریاست کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ کے نتیجے میں پیدا ہوئی ہے۔

اسی تناظر میں اور اس بحران کے دیگر اثرات کو مدنظر رکھتے ہوئے خطے کے ممالک، جن میں قطر اور پاکستان بھی شامل ہیں، جو ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات میں دو اہم ثالث سمجھے جاتے ہیں، ایران کے خلاف جنگ کے خاتمے اور سفارت کاری کی راہ پر واپسی کے لیے مذاکرات جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دے رہے ہیں۔

نیویارک میں بڑی تعداد میں مختلف ممالک کے رہنماؤں اور وزرائے خارجہ کی موجودگی نے بھی اس معاملے پر غیر رسمی مشاورت کے لیے ایک مناسب موقع فراہم کیا ہے۔

ٹرمپ اور شی جن پنگ کی ملاقات؛ واشنگٹن کے آئندہ فیصلوں کا اہم پہلو

اس دوران آنے والے دنوں کا سب سے اہم سفارتی واقعہ چین کے صدر شی جن پنگ اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان متوقع ملاقات ہے، جو اعلان کردہ پروگرام کے مطابق کل ہوگی۔

یہ ملاقات ایسے وقت میں اہمیت اختیار کرگئی ہے جب ایسا لگتا ہے کہ امریکہ اور خصوصاً ٹرمپ کو آئندہ نومبر میں ہونے والے امریکی کانگریس کے وسط مدتی انتخابات سے قبل ایران کے خلاف ایک وسیع اور ہمہ گیر جنگ کی طرف واپسی، موجودہ طویل جنگی صورتحال کو جاری رکھنے یا سفارتی معاہدہ قبول کرنے، تین راستوں میں سے کسی ایک کا سامنا ہے۔

اس تناظر میں ٹرمپ اور شی جن پنگ کی ملاقات کے مندرجات امریکی صدر کے آئندہ فیصلوں کی سمت متعین کرنے والے اہم عوامل میں سے ایک ہوسکتے ہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha